چنتامنی:10 /اکتوبر(محمد اسلم/ایس او نیوز)ریاستی حکومت کی طرف سے دلت اقلیتی طبقہ ودیگر طبقات کے لوگوں کے فلاح بہبودی کے لئے مختلف اسکیموں کو جاری کیا گیا ہے قرض کی سہولت فراہم کی گئی ہے مگر درمیانی افسران کی لاپراہی کی وجہ سے اہل مستحقین تک یہ اسکیمیں اور قرض کی رقم نہیں پہنچ پارہی ہے یہ بات سماجی کارکن و ظیفہ یاب سی بی آئی افسر ارون بابو نے کہی ۔انہوں نے آج شہر کے دوڈ پیٹ اریا وئشیا کلین منٹپ میں (ایس۔سی،ایس۔ٹی اور اقلیتی طبقہ کے لئے حکومت کے اسکیموں کے متعلق بیداری پروگرام و مائنارٹی ویلفر اسوسی ایشن کا افتتاح کرنے کے بعد خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اہل مستحقین ان سرکاری سہولتوں کا فائدہ اٹھائیں۔ارون بابو نے طلبہ کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے سرکار کی جانب سے جاری اسکیمات کے تعلق سے معلومات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ خواہشمند طلبا تعلیمی قرضہ حاصل کرکے آگے بڑھ سکتے ہیں تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہیں معاشی اور اقتصادی طور پر مضبوط کرنے کے لئے بھی سرکار کی جانب سے کئی ایک اسکیمات جاری کی گئی ہیں ،جس کے ذریعے تمام طبقات کے افراد خود کار بزنس بھی شروع کرسکتے ہیں۔
انہوں نے حکومت کی ناقص زرعی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بینکوں میں کسانوں کے لئے قرضے کا کوئی معقول انتظام نہیں، سبسیڈی، بیجوں اور کیڑے مار دواؤں کی فراہمی اور قیمتوں کی کمی کا حکومت سے کئی مرتبہ رعیتوں نے مطالبہ کیا ہے لیکن اس کا نتیجہ صفر ہی نکلاتھا ریاست میں عوام کی اکثریت کا انحصار زراعت پر ہے لیکن اس کے باوجود گزشتہ دس برسوں سے ہزاروں کسان خود کشی کرچکے ہیں ،ایک جائز ے کے مطابق خود کشی کی اہم وجہ قرض کی ادائیگی پر مجبور کیاجانا ہے حکومت کی جانب سے کارپوریٹ فارمنگ کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے لیکن عام روایتی کا شتکاروں کو نظر انداز کیاجارہا ہے نیز حکومت کے لئے لازم ہے کہ وہ کسانوں کے اقدام خود کشی پر قابو پانے کیلئے اور ان کی حوصلہ افزائی کے لئے موثر اقدامات اٹھائے۔انہوں نے مزید کہا کہ مائنارٹی ویلفر اسوسی ایشن کے طرف سے چنتامنی حلقہ کے مستحق لوگوں کی نشاندہی کرکہ انہیں قرض دیا جائے آئندہ ایک سال میں حلقہ کے 5ہزار مستحق لوگوں میں قرض فراہم کرنے کی کوشش کی جائے ۔بعد ڈاکٹر ہنومنتپا نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جڑواں کولار ۔چکبالاپور اضلاع کو ریاستی حکومت کی جانب سے قحط زدہ اور خشک علاقے کانام دیا گیا ہے اس کے باوجود یہاں ریاستی حکومت سے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں جس سے کسانوں کو مشکلات پیش آرہی ہے ریاست سرکار کسانوں کو دھوکہ دیتی آرہی ہے صرف پانی کے نام پر لاکھوں کروڑوں خرچ کرنے کا اعلان ہوتا ہے مگر وہ آخباروں کے حد تک محدود رہ جاتا ہے عملی کام نہیں ہو ا۔انہوں نے مزید کہا کہ چکبالاپور ۔کولار اضلاع میں برسوں سے خشک سالی کا ماحول ہے یہاں آج کل سے نہیں بلکہ کئی سالوں سے پانی کیلئے دونوں جڑواں اضلاع کے عوام ترس رہے ہیں ان دونوں جڑواں اضلاع کے عوام کا کوئی پرسان حال نہیں،اس موقع پر مختلف میدانوں میں خدمات انجام دئیے لوگوں کی نشاندہی کرکہ تہنیت پیش کی گئی اس موقع پر ڈاکٹر ہنومنتپا کے آر نرسمہ اپا منی نارائن ایم مختیار وسیم خان ایم دیوراج ومشی کرشنا کے ایل شرنیواس چندرہ شیکھرا جے وی گور مورتی شنکر کے ہیچ این ناگراج این شرنیواس وی وینکٹیش وغیرہ موجود رہے۔